حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن موسوی الصفوی نے طلبہ کی تعلیمی، اخلاقی اور فکری نشوونما کے لیے والدین اور اساتذہ کے درمیان قریبی اور مسلسل رابطے کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
انجمنِ شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے صدر نے جامعہ باب العلم اورینٹل کالج آف لرننگ میرگنڈ بڈگام کے محبوب ملت ہال میں والدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کا مقصد محض امتحانات میں کامیابی اور اسناد کا حصول نہیں، بلکہ طلبہ میں نظم و ضبط، کردار سازی، علم، شعور اور تنقیدی و آزادانہ فکر کو فروغ دینا بھی ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم میں فعال کردار ادا کریں اور اساتذہ کے ساتھ باقاعدہ رابطہ برقرار رکھیں۔
آغا سید حسن موسوی نے جموں و کشمیر کے کالجوں اور لائبریریوں سے مبینہ طور پر 4,249 کتابیں ہٹائے جانے، جن میں تقریباً 4,000 کتابیں کشمیر سے متعلق بتائی جاتی ہیں، کا حوالہ دیا اور اس معاملے میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہٹائی گئی کتابوں کے عنوانات، انہیں قابل اعتراض قرار دینے کی مخصوص وجوہات اور کتابوں کی واپسی کے لیے اختیار کیے گئے معیار کو عوام کے سامنے لایا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے اور کتب خانے علم، تحقیق اور فکری نشوونما کے مراکز ہونے چاہئیں، جہاں طلبہ کو مطالعہ، سوال کرنے، تحقیق کرنے اور مختلف افکار و نظریات کا تنقیدی جائزہ لینے کی ترغیب دی جائے۔
آغا سید حسن نے کہا کہ والدین، اساتذہ اور تعلیمی ادارے مل کر ایسی نسل کی تربیت کے ذمہ دار ہیں جو علم و شعور سے آراستہ، باکردار، نظم و ضبط کی پابند اور فکری طور پر مضبوط ہو اور معاشرے کی مثبت تعمیر و ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکے۔









آپ کا تبصرہ